خطرہ ایمان
خطرہ ایمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ د ودھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قادیان
ابوالسہیل
خود ساختہ مصلح موعود، مرزا بشیرالدین محمود احمد، خلیفہ ثانی و پسر مرزا غلام احمد قادیانی، اپنی ایک تقریر میں جو بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہوئی ، فرماتے ہیں کہ،" حضرت مسیح موعود نے اسکے متعلق بڑازور دیا ہے۔ اور فرمایا ہے۔کہ جو بار بار یہاں نہیں آتے۔ مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا۔ وہ کاٹا جائیگا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے، پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا ۔ آخر ماوں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں ۔" بحوالہ حقیقۃالرویاء ، صفحہ 46، از مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب
جب میں نے پہلی بار پڑھا تو میرے ذہن میں کوئی خیال پیدا نہ ہوا کیونکہ بطور احمدی میرے ذہن میں مکہ اور مدینہ کی حرمت کو نفسیاتی طریقوں سے گھٹا دیا گیا تھا اور قادیان و ربوہ کی زمین بھی میرے لئے ارض حرم کا نعم البدل تھی، لیکن جب میں تحقیقی دور میں داخل ہو ااور اس تحریر کو قادیانی عینک کے بغیر غیر جانبدار حق کے متلاشی کی حیثیت سے پڑھا تو کئی سوال اس وقت سے میرے ذہن میں بار بار اٹھتے ہیں، پیش خدمت ہیں، شاید کوئی قادیانی دوست انکے جواب سے نواز ے ؟
۱۔ پہلا سوال ذہن میں یہ آتاہے کہ مرزا محمود صاحب کے خیال میں مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ کب خشک ہوا ؟
۲ ۔ دوسرا اگر کافی عرصہ سے خشک تھا تو مرزا غلام احمدصاحب کے علم دین کی پرورش کس دودھ سے ہوئی؟دودھ نہ ملے تونہ صرف پرورش بھی صحیح نہیں ہوتی بلکہ انسان کئی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے ؟اور کہیں مرزا صاحب بھی، جسمانی کے علاوہ کئی روحانی امراض کے شکار تو نہیں تھے؟؟؟؟
۳ ۔ تیسرا یہ کہ اگر مرزا غلام احمد صاحب کے دعوے کے بعد خشک ہوا تو یہ کیسے پُر برکت نبی ہیں کہ آتے ہی جس مذہب کو ترقی دینی تھی اسی کی روحانی چھاتیاں خشک کر دیں؟
۴ ۔ چو تھے حج کس مقصد کے لئے ہے جب مکہ مدینہ کی چھاتیوں سے کسی کو روحانیت کا دودھ نہیں ملنا تو پھر حج کا کیا مقصد؟
۵ ۔ پانچویں کیا خدا نے دین کی تکمیل کی بشارت دی تھی تو اس میں یہ مفہوم نہیں تھا کہ یہ دین کی چھاتیاں سدا بہار ہیں اور ان چھاتیوں کا دودھ جنت کی نہروں کی طرح کبھی خشک ہونے والا نہیں اور ان کے خالص دودھ سے اب قیامت تک رہتی انسانیت سیراب ہو گی؟
۶۔ چھٹے قادیان کی چھاتیوں کا دودھ کب تک رہے گا یا رہا اورقادیانی چھاتیوں کا دودھ خشک ہونے کے بعد قادیانیوں کو کس کی چھاتیاں دیکھنی پڑیں گی؟
۷۔ ساتویں مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ مرزا صاحب کے دور تک یا پھر بھی ایک لمبا عرصہ دودھ موجود رہا مگر قادیان کی چھاتیوں کادودھ تو مرزا غلام احمد صاحب کی زندگی تک بھی نہ رہا یا کم از کم انکے زمانہ میں بھی کوئی صحتمندتبدیلی نظر نہیں آتی بعد کی بات تو بہت دور کی ہے؟۔انکے اپنے شکوے کہ میرے اصحاب نے کچھ نہیں سیکھا اور ان کی اپنی زندگی کے دوران مرزا غلام احمدصاحب نے جن لوگوں کی بڑی عزت کی اور بہت اعتماد کا اظہار کیا ، میرا مطلب محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب وغیرہ ہیں، انکے متعلق مرزا محمود صاحب نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد صاحب کے زمانہ ہی سے منافقت کا شکار تھے اور ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی نے تو مرزا غلام احمدصاحب پر بد دیانتی کے الزامات بھی لگائے۔ اور اپنے صحابیوں کے متعلق مرزا صاحب نے لکھا کہ جس طرح کتا مردار کی طرف دوڑتا ہے ابھی تک انکے صحابی اس طرح برائی کی طرف دوڑتے ہیں۔
۸ ۔ ساتویں کیا قادیان کی چھاتیوں کا دودھ مرزا غلام احمد صاحب کے خاندان کے لئے ہی تھا یا اوروں کے لئے بھی تھا یا ہے، کیونکہ دنیا کو تو اس دودھ کے فوائد سوائے ان کے خاندان کو پالنے کے کہیں نظر نہیں آئے ؟
۹۔ کیا چھاتیاں مرزا محمود صاحب کے ذہن پر اتنی سوار تھیں کہ آپکو دین میں بھی دودھ بھری یا سوکھی چھاتیوں کے علاوہ ، کوئی اور مناسب تشبیہہ نہ مل سکی ؟میرے خیال میں مرزا محمود مجبور تھے ، خاندانی ورثہ کا تسلسل ہے، باپ کو نماز اور جنسی فعل میں مطابقت نظر آتی ہے، بیٹے کو خطبوں/تقریروں میں کبھی چھاتیاں یاد آتی ہیں اور کبھی بٹالوی صاحب کے والد کا آلہ تناسل یاد آتا ہے، یورپ یاترا پر جاتے ہیں تو وہاں بھی اوپیرا میں سپیشل چھاتیاں دیکھنے جاتے ہیں، اور ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ موجودہ خلیفہ کو اپنی جماعت کی عورتیں مجموعی طور پر ننگی نظر آتی ہیں اور وہ کیا کینیڈا اور کیا لندن کا جلسہ ، گراموفون پر اٹکی ہوئی سوئی کی طرح ایک ہی بات کہ ’’ جماعت کی عورتیں اپنا ننگ ڈھانپیں‘‘ ۔اور یہ سلسلہ کہاں رکے گا؟ اللہ ہی جانے ؟
